ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ناندیڑ اسلحہ ضبطی معاملہ ؛مسلم نوجوانوں کی جرم قبول کرنے کی عرضداشت مسترد ؛ جمعیۃ نے پہلے ہی ملزمین کو متنبہ کیا تھا ، گلزار اعظمی

ناندیڑ اسلحہ ضبطی معاملہ ؛مسلم نوجوانوں کی جرم قبول کرنے کی عرضداشت مسترد ؛ جمعیۃ نے پہلے ہی ملزمین کو متنبہ کیا تھا ، گلزار اعظمی

Tue, 28 Nov 2017 01:48:02    S.O. News Service

ممبئی۲۷؍ نومبر(ایس او نیوز/پریس ریلیز) دہشت گردی کے الزامات کا سامنا کررہے مراٹھواہ کے پانچ مسلم نوجوانوں نے مقدمہ کی سماعت میں ہورہی تاخیر سے دل برداشتہ ہوکر جرم قبول کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس تعلق سے خصوصی عدالت میں عرضداشتیں بھی داخل کی  تھیں لیکن آج عدالت نے مسلم نوجوانوں کی عرضداشت کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ مقدمہ کی سماعت کے بعدہی فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا ملزمین پر الزام ثابت ہوا یا نہیں نیز یہ قبل از وقت ہوگا کہ ملزمین کو ایسے ہی سزائیں سنا دی جائیں  کیونکہ انہیں سنگین الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اور جرم ثابت ہونے پر عمرقید تک کی سزاء ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ سال ۲۰۱۰ء میں مہاراشٹر انسداد ہشت گرد دستہ (ATS ) نے پانچ مسلم نوجوانوں محمد مزمل عبدالغنی، محمد صادق محمد فاروق، محمد الیاس محمد اکبر، محمد عرفان محمد غوث اور محمد اکرم محمد اکبر کو گرفتار کرکے آرمس قانون کی دفعات ۳،۲۵ اور یواے پی اے قانون کی دفعات ۱۰،۱۳،۱۵، اور ۱۶ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا اور ان پر الزام عائد کیا تھا کہ ملزمین کا لشکر طیبہ اور ہوجی جیسی تنظیموں سے تعلق ہے اور ان کے نشانے پر ایم پی ،ایم ایل اے اور صحافی حضرات تھے ۔

شروعات میں معاملے کی تفتیش اے ٹی ایس نے کی اور پھر بعد میں قومی تفتیشی ایجنسی NIAکو معاملہ کی تحقیقات سونپی گئی جس نے ملزمین کے خلاف فرد جرم داخل کیا اور اس کے بعد اورنگ آباد سے مقدمہ ممبئی کی خصوصی این آئی اے عدالت منتقل ہوگیا اور ملزمین پر فرد جرم عائد کیئے جانے کے بعد باقاعدہ سرکاری گواہوں کے بیانات کا اندراج ہونے لگا ۔  ابتک ۱۷؍ گواہوں کے بیانات کا اندارج ہوچکا ہے لیکن مقدمہ کی سماعت میں ہورہی تاخیر سے دل برداشتہ مسلم نوجوانو ں نے جرم قبول کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن خصوصی جج اہواڑ نے آج اسے مسترد کرکے مقدمہ کی سماعت شروع کئے  جانے کے احکامات جاری کئے۔

ملزمین کی جانب سے جرم قبول کرنے والی عرضداشت عدالت میں داخل کئے  جانے کے بعد ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) نے ملزمین کے اس فیصلہ کو ان کا ذاتی فیصلہ قرار دیتے ہوئے انہیں دی جانے والی قانونی امداد کو فوراً ختم کرنے کااعلان کرتے ہوئے ان کے وکلاء ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان اور ایڈوکیٹ شریف شیخ کو مقدمہ سے دستبردار ہوجانے کی ہدایت دی تھی جس کے  بعد دونوں نے عدالت سے اپنا وکالت نامہ نکال لیا تھا۔

آج عدالت کی کارروائی کے بعد سکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار اعظمی نے اخبار ات کے نام جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ملزمین اور ان کے اہل خانہ کو پہلے ہی بہت سمجھانے کی کوشش کی تھی اور انہیں ملزمین کے اس فیصلہ سے متنبہ بھی کیا تھا لیکن وہ مانے نہیں تھے لیکن آج بالآخیر عدالت نے خود ان کی عرضداشت کوقبول کرنے سے انکار کردیا ۔گلزار اعظمی نے کہا کہ اب سینئر وکلاء سے صلاح و مشورہ کرنے کے بعد ہی قانونی امداد کے تعلق سے کوئی فیصلہ کیا جائے گا ۔ 


Share: